Hassan Bukhari

یہ فنا در فنا کا سلسلہ

یہ فنا در فنا کا سلسلہ
بقا در بقا کا راز ہے
یہ جو تار تار ہے ہل رہا
اصل حیات کا ساز ہے
تیری تھکی سی آنکھ تیرا الجھا پن
تیرے رتجگے کا غماز ہے
میرے واسطے بھیجتا ہے رزق
جو خواجہ غریب نواز ہے!
فقط حسین ہی ہے کائنات میں
جو اٹھاتا توحید کے ناز ہے