Hassan Bukhari

یہ بھی عجب ٹھرا

یہ بھی عجب ٹھرا
خاموشی کے پہرے میں
کئی کلام زندہ ہیں

بہت اونچے درختوں میں
گھنی چھاؤں کے گھیرے میں
ھواؤں کے پیام زندہ ہیں

وادیوں میں پگھلتی برف میں
اور چوٹیوں پر جمی سفیدی میں
خزاؤں کے پیام زندہ ہیں

گزرتی زندگانی میں
گئے بچپنے ، گئی جوانی میں
میری ہر ہر کہانی میں۔۔۔
تم سے پیام زندہ ہیں۔