Hassan Bukhari

عجب فقیر کر دیئے گئے ہیں

عجب فقیر کر دیئے گئے ہیں
کہ اپنی نظیر کر دیے گئے ہیں
جو خلق خدا سے تھے چھپتے پھرتے
عجب تشہیر کر دیئے گئے ہیں
نظر آنا شروع ہوا تو اپنی
نگاہ میں حقیر کر دیئے گئے ہیں
ہماری سانسوں میں کربلا ہے
کہ با ضمیر کر دیئے گئے ہیں
یقیں کی سرحدوں کے اندر جا کہ
کلِ شئ قدیر کر دئے گئے ہیں
کرم ہے قلندر سائیں کا ہم پہ
کہ صاحبِ تقدیر کر دیئے گئے ہیں