Hassan Bukhari

پھر دل سے دل ملا

پھر دل سے دل ملا
اور ملا ھاتھوں سے ھات
اور سب گذرتے موسم ہیں
ایک تو مسلسل دن و رات
اس دفعہ بارشوں نے کیا کیا
لگائی عجب راتوں پہ گھات
مجھے یاد ہے تیری آنکھوں میں
رکی ہوئی وہ ساری بات
اس عمرِ رفتہ کو روک لے
دے کر پھر ھاتھوں میں ھات
تیرے بنا جیتے تو ہیں پر
نہ دکھ و رنج، نہ جیت و مات
صحرا ، ھستی، فقر و مستی
سیھون شہر کی سوغات
مرشد لعلن کے کرم ہیں مجھ ہر
ورنہ کیا میں، کیا میری اوقات