Hassan Bukhari

زندگی تو خود ہی سے

زندگی تو خود ہی سے
رفتہ رفتہ گزرے گی
آخر زندگی ٹھہری

چاہے تنہائی کی رونق ہو
چاہے تم میسر ہو
وابستگی تو خود ہی سے
آھستہ آھستہ اترے گی
آخر وابستگی ٹھہری

چاہے لاکھ کوششیں کر لو
چاہے تھک ہار چھوڑ ڈالو
دھونے سے نہیں ھو گا
سرخیِ لہو تو خود ہی سے
آھستہ آھستہ اترے گی
لہو کی سرخی جو ٹھہری!