Hassan Bukhari

گئے بھادوں کی بارش سے

گئے بھادوں کی بارش سے
ساری وادی دھل گئی
ہوا کی خنکی بڑھ گئی
شام کچھ اور کھل گئی
تیری ایک مسکراہٹ سے
ساری کدورت دھل گئی
میں جا کہ اس میں بس رہا
وہ میری ذات میں گھل گئی
میری یادوں سے محو نہ ہونے پر
جانے آج کل وہ کیوں تل گئی؟
اندر کی خاموشی کے بعد
ایک ایک گرہ کھل گئی
قلندر کی سرخیوں میں حسن
میرے خوں کی سرخی بھی گھل گئی