Hassan Bukhari

کھڑکیوں سے بارش تو

کھڑکیوں سے بارش تو
کہ رہی تھی سب باتیں
تیری یاد سے مزین ہیں
اس موسم کی سب راتیں
چائے کے کپ پر ہو گئیں
کدورتوں کو سب ماتیں
موسم بدل ہی گیا آخر
خنک ہو گئیں راتیں
حسن وحشت جاں کب کم ہوئ؟
اٹھیں ہجر کی کوئی کب گھاتیں؟