Hassan Bukhari

عجب ہی ہو گیا اب تو

عجب ہی ہو گیا اب تو
کہ بادل تا دیر ٹھہرا
ہوا ساون اور گہرا
ہوا سبزے کا کڑا پہرا

عجب ہی ہو گیا اب تو
چمک آنکھوں کی اور بڑھ گئی
کلائمبر پوری دیوار چڑھ گئی
دیوانگی کچھ اور بھی بڑھ گئی

عجب ہی ہو گیا اب تو
کہ جو بھی سوچتے آیا
جو بھی کھوجتے آیا
یکسر سامنے پایا

عجب ہی ہو گیا اب تو
تجھے سچ بھا گیا شاید
کوئی رنگ آ گیا شاید
تیرا بھی دل آ گیا شاید

عجب ھی ہو گیا اب تو
ہوا گم میں فضاؤں میں
لگا اڑنے ہواؤں میں
قلندر کی پناہوں میں

عجب ھی ہو گیا اب تو
میں تجھ پہ مر نہیں پایا
کوئی وعدہ کر نہیں پایا
جو پہلے تھا کیا کرتا ۔۔۔
وہ سب اب کر نہیں پایا
عجب ھی ہو گیا اب تو !