Hassan Bukhari

بارشوں کے زور سے رات

بارشوں کے زور سے رات
گرد گرد چھت دھل گئی
تیری انگلیوں کی حدت تھی
میرے ھاتھوں میں گھل گئی
محبت منہ زور تو نہ تھی پر
اک چھوٹی سی ضد پر تل گئی
ھوا کے زور سے سمندر
کی طرف کی کھڑکی کھل گئی
سیھون سفر میں ساری ھستی
بودلہ کی گلی میں رُل گئی
بولنے کی تھی کبھی جو چاہت
تھوڑی تھوڑی نہیں ، کُل گئی
قلندر قبیلے کی رسم ہے حسن
ہر اور چاہت دل سے دھل گئی ۔