Hassan Bukhari

اس نے ھونے نہ دیا

اس نے ھونے نہ دیا
اور پھر ہونے دیا
پہلے چاہا ھی نہیں
لیکن مگر ہونے دیا
کل رات بارش نے کھڑکیوں کو
اک لمحہ بھی سونے نہ دیا
جو برسوں سے ہم چاہتے تھے
تیرے لفظوں نے ہونے نہ دیا
ایک تو نومبر کی رات تھی
پھر چاند نے سونے نہ دیا
مجھے چھوٹی سی پگڈنڈی نے
گاؤں تک کھونے نہ دیا
ایک خدشے نے یقیناً دعا
کو بھی پورا ہونے نہ دیا